حدیث نمبر: 4313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ فرات کے اندر سونے کا خزانہ نکلے تو جو کوئی وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (7119) صحيح مسلم (2894),
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الفتن 24 (7119)، صحیح مسلم/الفتن 8 (2894)، سنن الترمذی/صفة الجنة 26 (2569)، (تحفة الأشراف: 12263)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 25 (4046)، مسند احمد ( 2/261، 332، 360) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7119 | صحيح مسلم: 2894 | صحيح مسلم: 2895 | سنن ترمذي: 2569 | سنن ابن ماجه: 4046

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7119 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7119. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب دریائے فرات سے سونے کا خزانہ ظاہر ہوگا جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس سے کچھ نہ لے۔ ایک دوسری روایت ہے میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7119]
حدیث حاشیہ: تو خزانے کے بدل پہاڑ کا لفظ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7119 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7119 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7119. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب دریائے فرات سے سونے کا خزانہ ظاہر ہوگا جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس سے کچھ نہ لے۔ ایک دوسری روایت ہے میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7119]
حدیث حاشیہ:

کچھ لوگوں نے سونے سے تیل یا پٹرول کا کنواں مراد لیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث سونے کے پہاڑ کی صریح نص ہے جبکہ پٹرول میں سونا نہیں بلکہ سونا ایک معدن کا نام ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑے نکال باہر پھینکے گی جیسے سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ستون ہوتے ہیں۔
قاتل آئے گا اور کہے گا: میں نے اس کے لیے قتل کیا، رشتہ داری توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: میں نے اس کے لیے رشتوں کوتوڑا، چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر سب کے سب اس کو چھوڑیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)

اس خزانے سے کچھ نہ لینے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وہاں قتل وغارت کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
جب لوگ سنیں گے تو اس کی طرف چل دیں گے اور جو لوگ وہاں موجود ہوں گے وہ کہیں گے: اگر ہم نے انھیں اس پہاڑ سے لینے دیا تو یہ سارا سونا لے جائیں گے۔
آخر کار جنگ ہوگی اور نناوے فیصد لوگ مارے جائیں گے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7119 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2895 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبد اللہ بن حارث بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انھوں نے کہا لوگوں کی گردنیں دنیا کی طلب میں ہمیشہ مختلف رہیں گی، میں نے کہا، ہاں،حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"قریب ہے فرات سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہو جائے گا سو لوگ جب یہ بات سنیں گے، اس کی طرف چل پڑیں گے،پہاڑ کے قریب کے لوگ کہیں گے اگر ہم لوگوں کو اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7276]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اجم، قلعہ، جمع آجام ہے۔
(2)
اعناق، عنق (گردن)
کی جمع ہے، اس سے مراد، لوگوں کی حرص وآز کوبیان کرنا ہے کہ عام طور پر لوگ حصول دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی چیز ان میں باہمی رنجش واختلاف کا باعث بنتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2895 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2569 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2569]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2569 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4046 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قیامت کی نشانیوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4046]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے شاذ ہونے کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے ایک جملے کے سوا باقی روایت کو حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی اور دکتور بشار عواد اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت (مِنْ كُلِّ عَشرَة تِسْعَة)
دس میں سے نو افراد۔
والے کے جملے کے علاوہ حسن صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ جملہ شاذ ہے جبکہ محفوظ الفاظ (مِنْ كُلِّ مِائَةٌ تِسْعَة وَّ تِسْعُوْن)
ہر سو میں سے نناوے ہیں۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی اس جملے کو شاذ قراردیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت اس جملے کے سوا حسن بن جاتی ہے۔
والله اعلم، دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجة للألباني، رقم:  3286 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4046)

(2)
دریائے فرات ترکی سے شروع ہوکرشام عراق میں سے گزرتا ہوا خلیج فارس میں گرتا ہے۔
ترکی کا وہ حصہ بھی اس سے سیراب ہوتا ہے جہاں کردستان کے نام سے الگ ملک بنانے کی تحریک چل رہی ہے۔
اور عراق کا وہ حصہ جہاں یہ سمندر میں گرتا ہے۔
ایران اور کویت دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔
اس لیے اس علاقے میں معدنی دولت کا خزانہ ظاہر ہونے پر علاقے کے ممالک میں جنگ کا چھڑنا ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی علاقے کے ممالک کی سلامتی اور تحفظ کے نام پر بڑے ملک (امریکہ، روس اور چین وغیرہ)
بھی اس دولت پر قبضہ جمانے کے لیے شریک ہوسکتے ہیں۔

(3)
اس واقعہ کی پیشگی خبر دینے میں یہ حکمت ہے کہ سمجھ دار آدمی دولت کا لالچ نہ کریں اور جنگ میں شریک ہوکر جانیں نہ گنوائیں باالخصوص یہ جنگ اتنی شدید اور خطرناک ہوگی کہ ننانوے فیصد لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فی صد جنگجو زندہ بچیں گے۔
ان کا حال بھی زخموں اور بیماریوں کی وجہ سے قابل رشک نہیں ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4046 سے ماخوذ ہے۔