سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ باب: اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي " وَحَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي ، فَقَالَ : حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا ، فَقُلْتُ : وَمَا الْعَصْرَانِ ؟ فَقَالَ : صَلَاةُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةُ قَبْلَ غُرُوبِهَا " .
´فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظت کرو ، میں نے کہا : یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں ، آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجئیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہو جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عصرین پر محافظت کرو “ ، عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا ، اس لیے میں نے پوچھا : عصرین کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو نماز : ایک سورج نکلنے سے پہلے ، اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے ( فجر اور عصر ) “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظت کرو، میں نے کہا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں، آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجئیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصرین پر محافظت کرو“، عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا، اس لیے میں نے پوچھا: عصرین کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو نماز: ایک سورج نکلنے سے پہلے، اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے (فجر اور عصر)“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 428]
کام والے کو صبح اور عصر کی نمازوں کی پابندی کافی ہو، کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ شیخ ولی الدین عراقی نے لکھا ہے کہ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”نمازوں کے اول اوقات سے متعلق تھا۔“ تو اس نے معذرت کی کہ میں پانچوں نمازیں اوّل وقت میں نہیں پڑھ سکتا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو نمازوں کے اوقات کی بالخصوص تاکید فرمائی۔ «والله أعلم بالصواب» امام ابوداؤد رحمہ اللہ کا اس حدیث کو باب میں بیان کرنا اس کا مؤید ہے۔