حدیث نمبر: 4166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ ؟ قَالَتْ : بَلِ امْرَأَةٌ ، قَالَ : لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا ، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا ، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا ، اور فرمایا : ” مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا “ تو اس نے عرض کیا : نہیں ، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی “ یعنی مہندی سے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5092), صفية بنت عصمة : لا تعرف ومطيع :لين لحديث (تق : 8624،6820), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 18 (5092)، (تحفة الأشراف: 17868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/262) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5092

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4166]
فوائد ومسائل:
مستحب ہے کہ عورت کے کم از کم ناخن مہندی سے رنگے ہوئے ہوں تاکہ مردوں سے نمایاں رہے۔
ناخن پالش بھی لگائی جا سکتی ہے، مگر بعض علما کرام کہتے ہیں کہ اس سے طہارت حاصل نہیں ہو تی، کیونکہ پالش پانی کو جسم تک نہیں پہنچنے دیتی، لیکن مہندی میں یہ بات نہیں ہے، اس لیئے ناخن پالش سے اجتناب ضروری ہے۔
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک حسن ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4166 سے ماخوذ ہے۔