سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ باب: مغرب کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْمِي ، فَيَرَى أَحَدُنَا مَوْضِعَ نَبْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے ، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا ۔
وضاحت:
یعنی غروب کے بعد فوراً ہی نماز پڑھ لی جاتی تھی کہ نماز سے فراغت کے بعد فضا میں اس قدر روشنی باقی ہوتی تھی کہ کمان سے پھینکا گیا تیر اپنے گرنے کی جگہ پر نظر آتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مغرب کے وقت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 416]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 416]
416۔ اردو حاشیہ:
یعنی غروب کے بعد فوراًً ہی نماز پڑھ لی جاتی تھی کہ نماز سے فراغت کے بعد فضا میں اس قدر روشنی باقی ہوتی تھی کہ کمان سے پھینکا گیا تیر اپنے گرنے کی جگہ پر نظر آتا تھا۔
یعنی غروب کے بعد فوراًً ہی نماز پڑھ لی جاتی تھی کہ نماز سے فراغت کے بعد فضا میں اس قدر روشنی باقی ہوتی تھی کہ کمان سے پھینکا گیا تیر اپنے گرنے کی جگہ پر نظر آتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 416 سے ماخوذ ہے۔