حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رُفْقَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ رِحَالُهُمُ الْأَدَمُ ، فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ كَانُوا بِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَؤُلَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے ، تو انہوں نے کہا : جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7080)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/120) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بستر اور بچھونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے، تو انہوں نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4144]
فوائد ومسائل:
لوازم زندگی کا مہیا کرنا اور عمدہ نوعیت کا حاصل کرلینا کوئی معیوب نہیں ہے۔
بلکہ اسلام کی تائید کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4144 سے ماخوذ ہے۔