حدیث نمبر: 4075
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ،عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبيدة أبو خداش :مجهول (تق : 4414), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/63) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کپڑے کے جھالر کا بیان۔`
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4075]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداضعیف ہے، تاہم کپڑے کے اطراف میں اگر کچھ دھاگے بطور زینت کے بڑھائے گئے ہوں اور انہیں خاص اندازمیں ٹانگا گیا ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4075 سے ماخوذ ہے۔