سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْهُدْبِ باب: کپڑے کے جھالر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4075
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ،عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کپڑے کے جھالر کا بیان۔`
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4075]
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4075]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداضعیف ہے، تاہم کپڑے کے اطراف میں اگر کچھ دھاگے بطور زینت کے بڑھائے گئے ہوں اور انہیں خاص اندازمیں ٹانگا گیا ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ روایت سنداضعیف ہے، تاہم کپڑے کے اطراف میں اگر کچھ دھاگے بطور زینت کے بڑھائے گئے ہوں اور انہیں خاص اندازمیں ٹانگا گیا ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4075 سے ماخوذ ہے۔