حدیث نمبر: 4048
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ ، قَالَ : وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ ، قَالَ : وَقَالَ : أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ " ، قَالَ سَعِيدٌ : أُرَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا حَمَلُوا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَاءِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا فَلْتَطَّيَّبْ بِمَا شَاءَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سرخ گدوں ( زین پوشوں ) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں ، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں “ ۔ راوی کہتے ہیں : حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو ، سنو ! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو “ ۔ سعید کہتے ہیں : میرا خیال ہے قتادہ نے کہا : علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4048
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2788), سعيد وقتادة والحسن مدلسون وعنعنوا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10803)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 36 (2789)، مسند احمد (4/442) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ریشم کی حرمت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں سرخ گدوں (زین پوشوں) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں۔‏‏‏‏" راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو۔‏‏‏‏" سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4048]
فوائد ومسائل:
1: یہ روایت بعض محققین کے نزدیک صحیح ہے،علاوہ ازیں مذکورہ مسائل دیگر صحیح روایات سے بھی بھی ثابت ہیں۔

2: رسول ؐ کا یہ فرمانا ہے کہ میں یہ کام نہیں کرتا ہوں اس میں لطیف انداز سے افراد امت کو ان امور سے ممانعت ہے، بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے محبت کی وجہ سے ان کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

3: مردوں کے لئے جائز نہیں کہ ایسے پاوڈر اور کریمیں استعمال کریں جو ان کے رنگ وروپ کو نکھارنےکا والی ہوں، یہ صرف عورتوں کے لئے جائز ہیں۔

4: مہک والی خوشبوئیں اور عطر مردوں کے لئے اور عورت جب تک گھر کے اندر ہو شوہر کی دلداری کے لئے استعمال کرسکتی ہے، باہر جانا ہو تو اسے خوب صاف کرلے۔

5: اسلام اپنے معاشرے میں ایسے کسی عمل کی اجازت نہیں دیتا جو بظاہر معمولی ہی سہی، مگر دھیرے دھیرے بہت بڑے فتنے کا باعث ہو سکتا ہو۔
بالخصوص وعصمت وعفت کا بگاڑ اور معاشرے میں فساد، اللہ کی رحمت سے دوری اور اس کے شدید عقاب کا باعث بنتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4048 سے ماخوذ ہے۔