سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب مَنْ كَرِهَهُ باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4047
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهِ تَذَبْذَبَانِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس ( ایک باریک ریشمی کپڑا ) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا ۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں ، پھر آپ نے اسے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو “ انہوں نے کہا : پھر میں اسے کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1237 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1237- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "دومہ" کے حکمران "اکیدر" نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جبہ تحفے کے طور پر بھیجا تو لوگوں کو وہ بہت پسند آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1237]
فائدہ:
اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنتی رومال کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بعض جنتیوں کو رومال بھی دیے جائیں گے، سبحان اللہ۔
ہدیہ قبول کر لینا چاہیے، خواہ دینے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنتی رومال کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بعض جنتیوں کو رومال بھی دیے جائیں گے، سبحان اللہ۔
ہدیہ قبول کر لینا چاہیے، خواہ دینے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1235 سے ماخوذ ہے۔