حدیث نمبر: 390
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (241)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 618) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کپڑے میں تھوک لگ جائے تو کیا حکم ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 390]
390۔ اردو حاشیہ:
➊ انسان کا تھوک پاک ہے، اسی طرح بلغمی مادہ ناک کی آلائش بھی پاک ہے، لیکن کپڑے پر ظاہر لگی نظر آتی ہو تو بری لگتی ہے۔ اس لیے نظافت کے طور پر صاف کر لینی چاہیے۔ حالت نماز میں تھوکنے کی ضرورت محسوس ہو یا ناک صاف کرنے کی ضرورت ہو تو اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے کپڑے (رومال وغیرہ) میں تھوک کر اس کپڑے کو مسل دے۔ تھوک اور بلغم وغیرہ کو منہ کے اندر ہی اندر رکھ کر نماز ختم ہونے کا انتظار نہ کرتا رہے کہ اس طرح نماز کے خشوع و خضوع میں خلل واقع ہوتا ہے۔ «والله أعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 390 سے ماخوذ ہے۔