حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال : كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقُلْنَا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ : اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2200)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/السلام 22 (2200)، (تحفة الأشراف: 10903) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2200

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جھاڑ پھونک کا بیان۔`
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3886]
فوائد ومسائل:
ایسے دم جن کے الفاظ مفہوم و معنی میں واضح ہوں، شرک کا شائبہ نہ ہو اور تجربے سے مفید ثابت ہو ئے ہوں، ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3886 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2200 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم جاہلیت کے دور میں دم کرتے تھے، سو ہم نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اپنا دم مجھ پر پیش کرو، مجھے سناؤ، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5732]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ روایت اس کی کھلی دلیل ہے کہ صرف وہ دم، منتر ممنوع ہیں، جن میں شرک پایا جاتا ہے، یا معنی کا پتہ نہ ہونے کی صورت میں شرک کا خطرہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2200 سے ماخوذ ہے۔