حدیث نمبر: 3861
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ ، كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو سترہویں ، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4548)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12658) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 1088

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3861]
فوائد ومسائل:
ان تاریخوں کا فائدہ امر غیب سے ہے۔
ہم اس کی کوئی تو جیح نہیں کرسکتے۔
اس پر ایمان رکھنا واجب ہے۔
ان تواریخ کا اہتمام کرنا مستحب ہے اور قدیم اطباء کا بھی اجماع ہے کہ دوسرا نصف پہلے کی نسبت بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3861 سے ماخوذ ہے۔