حدیث نمبر: 385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ . ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ الْمَعْنَى ، قَالَ : أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى ، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو ( اس کے بعد کی ) مٹی اس کو پاک کر دے گی ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: جوتوں میں گندگی لگ جانے کی صورت میں اس کو زمین پر رگڑ دینے سے وہ پاک ہو جاتے ہیں، ان کو پہن کر نماز ادا کرنا صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند منقطع وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 14329) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عمران ایوب لاہوری
C
«والنجاسات هي غائط الإنسان وبوله»

اور نجاستیں یہ ہیں: مطلق طور پر انسان کا پیشاب اور پاخانہ۔

➊ اس پر امت کا اجماع ہے۔ [بداية المجتهد 73/1] ۳؎

➋ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ»
جب تم میں سے کوئی (چلتے ہوئے) اپنی جوتی کو گندگی لگا دے تو مٹی سے پاک کر دیتی ہے۔ [أبو داود 385]

ایک روایت میں یہ الفاظ مرفوعا مروی ہیں: «إِذَا وَطِئَ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ»
’’ جب کوئی اپنے موزوں کو گندگی لگا دے تو انہیں پاک کرنے والی مٹی ہے۔ [أبو داود 386] ۴؎

➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پیشاب کرنے والے دیہاتی کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہا دینے کا حکم دیا۔ [بخاري 221] ۵؎

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کا پیشاب نجس ہے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ [نيل الأوطار 88/1]

------------------

۳؎ [بداية المجتهد 73/1، المغني 52/1، فتح القدير 135/1، كشاف القناع 213/1، مغني المحتاج 77/1، اللباب 55/1، الشرح الصغير 49/1]

۴؎ [صحيح: صحيح أبو داود 372، 371 كتاب الطهارة: باب فى الأذي يصيب النعل، بيهقي 430/2، ابن حبان ص85ء الموارد، حاكم 166/1، ابن خزيمة 148/1، شرح معاني الآثار 511/1، أبو داود 385، 382]

۵؎ [بخاري 221، كتاب الوضوء: باب صب الماء على البول فى المسجد، مسلم 284، ترمذي 148، نسائي 175/1، ابن ماجة 528، شرح معاني الآثار13/1، ابوعوانة 213/1، عبدالرزاق 1660، بيهقي 327/2، أحمد 110/3، دارمي 189/1]

* * * * * * * * * * * * * *

درج بالا اقتباس فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 142 سے ماخوذ ہے۔