حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَإِسْمَاعِيل ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا ، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے تو ہم مشرکین کے برتن اور مشکیزے پاتے تو انہیں کام میں لاتے تو آپ اس کی وجہ سے ہم پر کوئی نکیر نہیں فرماتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3838
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2400)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/327، 343، 379، 389) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے برتنوں میں کھانا کیسا ہے؟`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے تو ہم مشرکین کے برتن اور مشکیزے پاتے تو انہیں کام میں لاتے تو آپ اس کی وجہ سے ہم پر کوئی نکیر نہیں فرماتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3838]
فوائد ومسائل:
فائدہ: مشرکین یا اہل کتاب کے برتنوں کے متعلق جب یہ یقین ہوکہ ان کے برتن پاک صاف ہیں۔
اور کسی حرام شے سے آلودہ نہیں ہیں۔
تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
ہاں اگر شبہ ہو تو اس کو دھو کر پاک کرنا چاہیے۔
خصوصا عیسائی یہودی اور مشرک ممالک میں غالب گمان ہوتا ہے۔
کہ وہ لو گ حرام چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے۔
تو وہاں احتیاطاً دھو لینا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3838 سے ماخوذ ہے۔