حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کر لے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کھجور کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3831]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3831]
فوائد ومسائل:
فائدہ: علامہ طیبی کہتے ہیں۔
کہ اس فرمان میں جن علاقوں میں کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
وہاں کے لوگوں کو بالخصوص ترغیب دی گئی ہے۔
کہ اس سے خوب استفادہ کیا کریں۔
اور دیگر مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس مبارک پھل سے فائدہ اٹھایا کریں۔
نیز اس کی کاشت بڑھانا مادی لحاظ سے بھی بہت نفع آور ہے۔
فائدہ: علامہ طیبی کہتے ہیں۔
کہ اس فرمان میں جن علاقوں میں کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
وہاں کے لوگوں کو بالخصوص ترغیب دی گئی ہے۔
کہ اس سے خوب استفادہ کیا کریں۔
اور دیگر مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس مبارک پھل سے فائدہ اٹھایا کریں۔
نیز اس کی کاشت بڑھانا مادی لحاظ سے بھی بہت نفع آور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3831 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2046 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! وہ گھر جس میں کھجوریں موجود نہیں، اس کے باشندے بھوکے ہیں، اے عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہیں، اس کے مالک بھوکے ہیں۔‘‘ آپﷺ نے یہ بات دو تین مرتبہ فرمائی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5337]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عربوں کی عمومی خوراک کھجوریں تھیں اور وہ لوگ انہیں پر گزارہ کر لیتے تھے، اس لیے جو گھر ان سے محروم ہو وہ ہمیشہ بھوک کے خطرہ سے دوچار رہتا ہے، اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، گھر میں عام طور پر کھائے جانے والے غلہ یا پھل کا کچھ نہ کچھ ذخیرہ رہنا چاہیے اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2046 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1815 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کھجور کی فضیلت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1815]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1815]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجورتھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو، آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کرکے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔
حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظرکھجورکے فوائد کی بناپر گھرمیں ہروقت کھجورکی ایک مقدار ضرور رہنی چاہئے۔
وضاحت:
1؎:
یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجورتھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو، آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کرکے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔
حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظرکھجورکے فوائد کی بناپر گھرمیں ہروقت کھجورکی ایک مقدار ضرور رہنی چاہئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1815 سے ماخوذ ہے۔