حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " أَكَلْتُ ثُومًا ، فَأَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَ الثُّومِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا أَوْ رِيحُهُ ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنِّي يَدَكَ ، قَالَ : فَأَدْخَلْتُ يَدَهُ فِي كُمِّ قَمِيصِي إِلَى صَدْرِي ، فَإِذَا أَنَا مَعْصُوبُ الصَّدْرِ ، قَالَ : إِنَّ لَكَ عُذْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی ، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی ، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا : ” جو شخص اس درخت ( لہسن ) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے “ ۔ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا ، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے ، وہ کہتے ہیں : میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا ، تو میرا سینہ بندھا ہوا نکلا آپ نے فرمایا : ” بلاشبہ تو معذور ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے انہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ لیا تھا جس کا بندھن سینے تک تھا، اور انہیں کھانے کے لئے لہسن کے سوا کچھ نہیں ملا تھا جسے کھا کر وہ مسجد آئے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3826
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أبو ھلال تابعه سليمان بن المغيرة عند أحمد (4/252) وصححه ابن خزيمة (1672) وابن حبان (319)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/249، 252) (صحیح) » (اس کے راوی ابو ہلال متکلم فیہ ہیں مگر صحیح ابن خزیمہ میں ان کی صحیح متابعت موجود ہے، نمبر 1672)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لہسن کھانے کا بیان۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے۔‏‏‏‏ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3826]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یعنی بیماری کے علاج کی خاطر لہسن استعمال کرنے پر آپ نے ان کو معذور جانا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3826 سے ماخوذ ہے۔