سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 38
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه يَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 263 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: ’’کہ رسول اللہ ﷺ نے ہڈی یا مینگنی (لیڈنا) سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:608]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
خِرَاءَةٌ: قضائے حاجت کی ہئیت و کیفیت اور اگر خراء ہو تو پاخانہ کو کہیں گے۔
(2)
غَائِطٌ: نشیبی زمین کو کہتے ہیں، مراد پاخانہ ہے۔
(3)
رَجِيعٌ: گوبر۔
(4)
عَظْمٌ: ہڈی۔
(5)
بَعْرٌ: مینگنی۔
فوائد ومسائل:
جس طرح کھانا پینا، پہننا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں، اس طرح بول وبراز انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے، رسول اکرمﷺ نے جس طرح زندگی کے دوسرے کاموں اور دوسرے شعبوں کے بارے میں ہدایات وتعلیمات دی ہیں، اس طرح پیشاب، پاخانہ اور طہارت واستنجا کے بارے میں بھی مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں، جو اسلام کے کامل ضابطہ زندگی ہونے کا بین ثبوت ہیں: (1)
دایاں ہاتھ جس کو ہمارے خالق نے پیدائشی طور پر بائیں ہاتھ کے مقابلہ میں زیادہ قوت وطاقت اور صلاحیت کار بخشی ہے، اس کو استنجے کی گندگی وپلیدی کی صفائی کےلیے استعمال نہ کیا جائے۔
(2)
قضائے حاجت کے لیے اس طرح نہ بیٹھا جائے، کہ انسان کا رخ یا پشت قبلہ کی طرف ہو، کیونکہ قبلہ کے ادب واحترام کا تقاضا یہی ہے۔
تفصیل آگے آرہی ہے۔
(3)
بول وبراز کی صفائی کے لیے کم از کم تین پتھر یا ڈھیلے استعمال کیے جائیں گے۔
(4)
کسی جانور کی گری ہڈی یا اس کےخشک فضلے، لید، گوبر وغیرہ سے استنجا نہ کیاجائے۔
: (1)
خِرَاءَةٌ: قضائے حاجت کی ہئیت و کیفیت اور اگر خراء ہو تو پاخانہ کو کہیں گے۔
(2)
غَائِطٌ: نشیبی زمین کو کہتے ہیں، مراد پاخانہ ہے۔
(3)
رَجِيعٌ: گوبر۔
(4)
عَظْمٌ: ہڈی۔
(5)
بَعْرٌ: مینگنی۔
فوائد ومسائل:
جس طرح کھانا پینا، پہننا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں، اس طرح بول وبراز انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے، رسول اکرمﷺ نے جس طرح زندگی کے دوسرے کاموں اور دوسرے شعبوں کے بارے میں ہدایات وتعلیمات دی ہیں، اس طرح پیشاب، پاخانہ اور طہارت واستنجا کے بارے میں بھی مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں، جو اسلام کے کامل ضابطہ زندگی ہونے کا بین ثبوت ہیں: (1)
دایاں ہاتھ جس کو ہمارے خالق نے پیدائشی طور پر بائیں ہاتھ کے مقابلہ میں زیادہ قوت وطاقت اور صلاحیت کار بخشی ہے، اس کو استنجے کی گندگی وپلیدی کی صفائی کےلیے استعمال نہ کیا جائے۔
(2)
قضائے حاجت کے لیے اس طرح نہ بیٹھا جائے، کہ انسان کا رخ یا پشت قبلہ کی طرف ہو، کیونکہ قبلہ کے ادب واحترام کا تقاضا یہی ہے۔
تفصیل آگے آرہی ہے۔
(3)
بول وبراز کی صفائی کے لیے کم از کم تین پتھر یا ڈھیلے استعمال کیے جائیں گے۔
(4)
کسی جانور کی گری ہڈی یا اس کےخشک فضلے، لید، گوبر وغیرہ سے استنجا نہ کیاجائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 263 سے ماخوذ ہے۔