حدیث نمبر: 3694
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالُوا : فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ` وفد کے لوگوں نے پوچھا : ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي في الكبري (6833), قتادة مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر رقم : (3692)، (تحفة الأشراف: 5663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/361) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3694]
فوائد ومسائل:
فائدہ: شاید منہ باندھنے سے اگر اس میں ترشی پیدا ہو تو گیس وے وہ پھول جاتا ہے۔
تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں ترشی آگئی ہے۔
(بذل المجهود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3694 سے ماخوذ ہے۔