حدیث نمبر: 3683
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا ، قَالَ : هَلْ يُسْكِرُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاجْتَنِبُوهُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں ، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ” ہاں “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو اس سے بچو “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے ، آپ نے فرمایا : ” اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3651), أخرجه أحمد (4/232) محمد بن إسحاق تابعه عبد الحميد بن جعفر وغيره
تخریج حدیث « * تخريج:تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/231، 232) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔`
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو۔‏‏‏‏ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3683]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کسی حرام چیز کا عادی ہوجانا اس کے حلال ہونے کی وجہ جواز نہیں بن سکتا۔
نیز صریح خلاف اسلام امور پر خلیفہ وقت کو قتال کرکے بھی ان کا ازالہ کرنا لازم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3683 سے ماخوذ ہے۔