سنن ابي داود
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ باب: نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا ، قَالَ : هَلْ يُسْكِرُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاجْتَنِبُوهُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ " .
´دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں ، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ” ہاں “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو اس سے بچو “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے ، آپ نے فرمایا : ” اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ “ میں نے عرض کیا: ” ہاں “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر تو اس سے بچو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: ” اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3683]
فائدہ: کسی حرام چیز کا عادی ہوجانا اس کے حلال ہونے کی وجہ جواز نہیں بن سکتا۔
نیز صریح خلاف اسلام امور پر خلیفہ وقت کو قتال کرکے بھی ان کا ازالہ کرنا لازم ہے۔