سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا ، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ، كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے ، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے ، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے ، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کرے ، تو یہ اس جمعہ سے اس ( یعنی پچھلے ) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، اور جو بلا ضرورت ( بیہودہ ) باتیں بکے ، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے ، تو وہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہو گا “ ۔