حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرًا ، وَقَالَ عَبَّاسٌ ابْنُ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ ، زَادَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا ، لَأَجْزَأَ عَنْكَ صَلَاةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ وَقَالَ : أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَعْن رِجَالٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں ( یعنی مسجد الحرام میں ) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا “ ( وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے : اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يوسف بن الحكم مستور،لم يوثقه غير ابن حبان و في التحرير (7859) : ’’ مجهول الحال ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/373) (ضعیف الإسناد) » ( اس کے رواة یوسف، حفص، عمر وبن عبدالرحمن سب کے سب لین الحدیث ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان۔`
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں (یعنی مسجد الحرام میں) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا (وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3306]
فوائد ومسائل:
اگر کسی خاص جگہ عبادت کی نذر مانی ہو تو جائز ہے۔
کہ اس سے افضل جگہ میں اپنی نذر پوری کرلے سب سے افضل مسجد بیت اللہ الحرام۔
بعد ازاں مسجد نبوی ﷺ اور پھر بیت المقدس ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3306 سے ماخوذ ہے۔