سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ باب: قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، ثُمَّ سَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ : ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا “ ، پھر فرمایا : ” ان شاءاللہ “ پھر فرمایا : ” قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ “ پھر فرمایا : ” قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا “ پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا : ” ان شاءاللہ “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : ” پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا “ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر قسم میں " ان شاء اللہ " بدون توقف اور سکوت کہے تب قسم میں حانث ہونے سے کفارہ لازم نہیں آئے گا، ورنہ لازم آئے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۲۶۱) میں ہے، یہ حدیث ضعیف ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3285 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔`
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا " پھر کہا: " ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: " پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3285]
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا " پھر کہا: " ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: " پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3285]
فوائد ومسائل:
مستقبل کے امور میں ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا)(الکہف۔
23۔
24۔
) اور (اے نبی) آپ کسی شے کے متعلق نہ کہیں بے شک میں اسے کل کرنے والا ہوںمگر یہ کہ اللہ چاہے علاوہ ازیں قدرے توقف سے بھی کہے تب بھی جائز ہے۔
مستقبل کے امور میں ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا)(الکہف۔
23۔
24۔
) اور (اے نبی) آپ کسی شے کے متعلق نہ کہیں بے شک میں اسے کل کرنے والا ہوںمگر یہ کہ اللہ چاہے علاوہ ازیں قدرے توقف سے بھی کہے تب بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3285 سے ماخوذ ہے۔