سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ باب: قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3285
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِد ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَسْنَدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ : عَنْ شَرِيكٍ ، ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اللہ کی ، میں قریش سے جہاد کروں گا ، قسم اللہ کی ، میں قریش سے جہاد کروں گا ، قسم اللہ کی ، میں قریش سے جہاد کروں گا “ پھر کہا : ” ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے ، شریک نے سماک سے ، سماک نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے ، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے : ” پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔`
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا " پھر کہا: " ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: " پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3285]
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا " پھر کہا: " ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: " پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3285]
فوائد ومسائل:
مستقبل کے امور میں ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا)(الکہف۔
23۔
24۔
) اور (اے نبی) آپ کسی شے کے متعلق نہ کہیں بے شک میں اسے کل کرنے والا ہوںمگر یہ کہ اللہ چاہے علاوہ ازیں قدرے توقف سے بھی کہے تب بھی جائز ہے۔
مستقبل کے امور میں ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا)(الکہف۔
23۔
24۔
) اور (اے نبی) آپ کسی شے کے متعلق نہ کہیں بے شک میں اسے کل کرنے والا ہوںمگر یہ کہ اللہ چاہے علاوہ ازیں قدرے توقف سے بھی کہے تب بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3285 سے ماخوذ ہے۔