حدیث نمبر: 3284
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَقَالَ لَهَا : أَيْنَ اللَّهُ ؟ ، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا ، فَقَالَ لَهَا : فَمَنْ أَنَا ؟ ، فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا ، اور اس نے عرض کیا : اﷲ کے رسول ! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا : ” اﷲ کہاں ہے ؟ “ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی آسمان کے اوپر ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی ( یہ کہا ) آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لونڈی لے کر آنے والے شخص سے ) کہا : ” اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, المسعودي اختلط قبل موته (تق : 3919) وسماع يزيد بن ھارون منه بعد اختلاطه (الكواكب النيرات ص55 ت 35), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 13581)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/291) (حسن لغیرہ) » (اس کے راوی مسعود ی اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد ہی روایت لی ہے لیکن معاویہ سلمی کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے ) (الصحیحة: 3161، تراجع الألباني: 107)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسلمان لونڈی کو (کفارہ میں) آزاد کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لونڈی) سے پوچھا: " اﷲ کہاں ہے؟ " تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان کے اوپر ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: " میں کون ہوں؟ " تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا: " اسے آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3284]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم واضح ہے کہ کوئی گونگا یا عجمی آدمی اپنے اشاروں سے اپنا مافی الضمیر سمجھادے تو معتبر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3284 سے ماخوذ ہے۔