مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3211
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ : " أَوْصَى الْحَارِثُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ الْقَبْرِ ، وَقَالَ : هَذَا مِنَ السُّنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابواسحاق کہتے ہیں کہ` حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز ( نماز جنازہ ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں ، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا : یہ مسنون طریقہ ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 465

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میت کو کیسے (کس طرف سے) قبر میں اتارا جائے؟`
ابواسحاق کہتے ہیں کہ حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز (نماز جنازہ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا: یہ مسنون طریقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3211]
فوائد ومسائل:
صحابی کا کسی عمل کو سنت کہنے سے رسول اللہ ﷺ کی سنت مراد ہوتی ہے اور اسے اصطلاحا مرفوع حکمی کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3211 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 465 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´میت کو قبر میں پاؤں کی جانب سے اتارنا`
ابواسحٰق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے میت کو اس کے پاؤں کی طرف سے قبر میں اتارا اور کہا کہ سنت طریقہ یہی ہے۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 465]
لغوی تشریح:
«مَنْ قِبَلِ رَجْلَيِ الْقَبْرِ» ] یعنی اس جانب سے جہاں میت کے پاؤں ہوتے ہیں۔ یہ حال کا اطلاق محل پر ہے، یعنی حال بول کر محل مراد لیا ہے۔

فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ میت کو قبر میں پاؤں کی جانب سے اتارنا چاہیے۔ اہل حجاز میں اسی پر عمل تھا اور اسی کو امام شافعی رحمہ الله اور امام احمد رحمہ الله نے اختیار کیا ہے اور یہی افضل ہے کیونکہ کوئی صحیح روایت اس کے برعکس ثابت نہیں۔

راوی حدیث:
[حضرت ابواسحاق رحمہ الله ] عمرو بن عبداللہ سبیعی ہمدانی کوفی مشہور تابعی ہیں۔ آپ سے بکثرت روایات مروی ہیں مگر تدلیس کرتے تھے۔ آخر عمر میں ذہنی توازن بگڑ گیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابھی دو سال باقی تھے کہ ان کی پیدائش ہوئی۔ ۱۲۹ ہجری میں فوت ہوئے۔
[حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ ] خطمی انصاری۔ قبیلہ اوس سے تھے۔ جس وقت صلح حدیبیہ میں حاضر ہوئے اس وقت ان کی عمر سترہ برس تھی۔ جنگ جمل و صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ کوفہ میں آئے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے عہد میں کوفہ کے والی تھے۔ اسی دور میں کوفہ کے مقام پر فوت ہوئے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 465 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔