سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ باب: میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟
حدیث نمبر: 3209
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : " غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ ،وَالْفَضْلُ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُرَحَّبٌ ، أَوِ ابْنِ أَبِي مُرَحَّبٍ ، أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ ، قَالَ : إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر شعبی کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی ، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا ، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا ۔ شعبی کہتے ہیں : مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ( دفن سے ) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی ( مردے ) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہوا کرتے ہیں ۔