مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، يَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ ، وَالثَّالِثَةَ بِالْمَاءِ وَالْكَافُورِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قتادہ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے میت کو غسل دینے کا طریقہ سیکھا تھا ، وہ دوبار بیری کے پانی سے غسل دیتے اور تیسری بار کافور ملے ہوئے پانی سے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة مدلس وعنعن, والحديث السابق (الأصل : 3142) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میت کو کیسے غسل دیا جائے؟`
قتادہ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے میت کو غسل دینے کا طریقہ سیکھا تھا، وہ دوبار بیری کے پانی سے غسل دیتے اور تیسری بار کافور ملے ہوئے پانی سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3147]
فوائد ومسائل:
میت کوغسل دینے کا مسئلہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔
لہذا علما ء کو چاہیے کہ طلباء اور جوانوں کو اور گھروں میں عورتوں کو بھی سکھایئں۔
اور میت کو غسل دینا کوئی حقیر کام نہیں۔
بلکہ ایک مسلمان کی عظیم خدمت اور بڑے اجروثواب کا کام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3147 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔