حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ :ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الْفَيْءَ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ ، وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالرَّجُلُ وَقِدَمُهُ وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهُ وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن فیٔ ( بغیر جنگ کے ملا ہوا مال ) کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اس فیٔ کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہم میں سے اس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے ، لیکن ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے اعتبار سے اپنے اپنے مراتب پر ہیں ، جو شخص اسلام لانے میں مقدم ہو گا یا جس نے ( اسلام کے لیے ) زیادہ مصائب برداشت کئے ہونگے یا عیال دار ہو گا یا حاجت مند ہو گا تو اسی اعتبار سے اس میں مال تقسیم ہو گا ، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے مال فیٔ تقسیم کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/42) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام پر رعایا کے کیا حقوق ہیں؟ اور ان حقوق کے درمیان رکاوٹ بننے کا وبال۔`
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن فیٔ (بغیر جنگ کے ملا ہوا مال) کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اس فیٔ کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہم میں سے اس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے، لیکن ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے اعتبار سے اپنے اپنے مراتب پر ہیں، جو شخص اسلام لانے میں مقدم ہو گا یا جس نے (اسلام کے لیے) زیادہ مصائب برداشت کئے ہونگے یا عیال دار ہو گا یا حاجت مند ہو گا تو اسی اعتبار سے اس میں مال تقسیم ہو گا، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2950]
فوائد ومسائل:
دنیا میں اولیت اسلام کو دل وجان سے قبول کرلینے کی اولیت میں ہے یا اس کے لئے جان کی بازی لڑانے میں ہے۔
آخرت میں بھی درجات اسی اعتبار سے ملیں گے۔
اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سب سے اولین میں سے ہوں گے۔
وسائل کی تقسیم کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پالیسی دنیا کے لئے ماڈل ہے۔
آپ اس پالیسی کے حوالے سے اپنے احتساب کو خندہ پیشانی سے قبول فرماتے تھے۔
بلکہ احتساب کی حوصلہ افزائی کرتے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2950 سے ماخوذ ہے۔