حدیث نمبر: 2695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ،عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا غَلَبَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثًا ، قَالَ ابْنُ المُثَنَّى : إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَطْعَنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ سَعِيدٍ لِأَنَّهُ تَغَيَّرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُخْرِجْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا بِأَخَرَةٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يُقَالُ إِنَّ وَكِيعًا حَمَلَ عَنْهُ فِي تَغَيُّرِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے ۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے : جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید ( سعید ابن ابی عروبہ ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے ، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا ، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: بخاری اورمسلم نے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کو روح بن عبادہ کی روایت سے صحیحین میں داخل کیا ہے، یہ روایت بھی روح ہی کے واسطے سے ہے، اس لئے اس کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہے، وکیع نے ابن ابی عروبہ سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے یہ بات مسلَّم ہے، مگر یہاں اس کا کوئی عمل دخل نہیں یہ بات مؤلف نے برسبیل تذکرہ لکھ دی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3065)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 184 (3064)، والمغازي 8 (3976)، صحیح مسلم/صفة أہل النار 17 (2875)، سنن الترمذی/السیر 3 (1551)، (تحفة الأشراف: 3770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/145، 4/29)، سنن الدارمی/السیر 22 (2502) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3065 | سنن ترمذي: 1551

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دشمن پر غلبہ پانے کے بعد امام کا میدان جنگ میں ٹھہرنا۔`
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے: جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید (سعید ابن ابی عروبہ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2695]
فوائد ومسائل:
حدیث صحیح ہے۔
اور  یہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔
(2530) یہی وجہ ہے کہ امام ابودائود کا یہ قول جو بریکٹوں کے درمیان ہے۔
ابو دائود کے بعض نسخوں میں نہیں ہے۔
اور اس کا نہ ہونا ہی زیادہ مناسب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2695 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3065 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3065. حضرت ابو طلحہ ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن اسی میدان میں قیام کرتے تھے۔ اس حدیث کو روایت کرنے میں معاذ اور عبد الاعلیٰ نے روح بن عبادہ کی متابعت کی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم سے سعید نے قتادہ سے، انھوں نے حضرت انس ؓسے، انھوں نے حضرت ابو طلحہ سے، انھوں نے نبی ﷺ سے اسے بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3065]
حدیث حاشیہ:

وہاں تین دن قیام اس صورت میں ہوتا جب دشمن سے بالکل کسی قسم کا خطرہ نہ ہوتا۔
اس قیام کا مقصد یہ ہوتا کہ اس علاقے کی فلاح وبہبود کے لیے مفید اصلاحات نافذ کی جائیں،نیز اسلام کی شان وشوکت کا اظہار بھی مقصود ہوتا۔
بہرحال مفتوحہ علاقوں میں تین دن قیام کرنے کی اجازت ہے تاکہ غلبے کی خوب شہرت ہوجائے اور وہاں اسلام کی قوت نظر آنے لگے۔
واللہ أعلم۔

آج کل توایٹمی دور میں ایسے خود کارمیزائل ایجاد ہوچکے ہیں کہ سینکڑوں میل دور اس کا ہدف مقرر کردیا جاتا ہے وہ خود بخود راستے میں بچتابچاتا اپنے نشانے پر جالگتا ہے۔
اب تو کسی علاقے میں تین دن ٹھہرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میدانی جنگ ناپید ہوچکی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3065 سے ماخوذ ہے۔