حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2620)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5061) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔`
ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2621]
فوائد ومسائل:

فی الواقع حاجت مند کواجازت ہے کہ بغیر اجازت کے باغ اور کھیت میں سے کھا پی لے، مگر ساتھ لے جانا جائز نہیں۔


سزا دینے سے پہلے ضروری ہے۔
کہ نادان کو سمجھایا جائے اور جاہل ایک حد تک معذور بھی ہوتا ہے۔


حسب حیثیت ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا مسلمان کا فریضہ ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2621 سے ماخوذ ہے۔