حدیث نمبر: 2618
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَعَثَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسْبَسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جاسوس بھیجنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2618]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2618]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں میں ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا حرام ہے۔
الا یہ کہ امیر المومنین اصلاح احوال کےلئے ان کے بعض امور کی ٹوہ لگائےتو جائز ہے۔
تاہم دشمن کے احوال کی خبر لینے کے لئے یہ عمل سیاستاً واجب ہے۔
مسلمانوں میں ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا حرام ہے۔
الا یہ کہ امیر المومنین اصلاح احوال کےلئے ان کے بعض امور کی ٹوہ لگائےتو جائز ہے۔
تاہم دشمن کے احوال کی خبر لینے کے لئے یہ عمل سیاستاً واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2618 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1901 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جاسوس بنا کر روانہ فرمایا تاکہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کے حالات کا جائزہ لے، وہ واپس آیا تو میرے سوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا گھر میں کوئی نہ تھا، ثابت کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کو مستثنیٰ کیا تھا، اس نے آپ کو واقعہ سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4915]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
طلبه: مطلوبہ ضرورت۔
قرن: ترکش فوائد ومسائل: ابو سفیان ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے واپس آ رہا تھا، جس کے ساتھ صرف تیس چالیس آدمی تھے، آپ نے اس کے حالات سے آگاہی کے لیے جاسوس روانہ کیا، پھر اس کی رپورٹ پر مطلوبہ چیز سے آگاہ کیے بغیر نکلنے کا حکم دیا تاکہ خبر عام نہ ہو جائے اور فوری تعاقب کی بنا پر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے کچھ توقف نہیں کیا اور قافلہ کا تعاقب مطلوب تھا، اس لیے، اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اور تیاری نہیں کی اور حضرت عمیر نے جنتی ہونے کی پیش گوئی سن کر چند کھجوریں کھانے کے لیے وقت صرف کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور انہیں پھینک کر وہاں جانے کے لیے دشمن سے جا ٹکرائے، لیکن اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کہ آپ کو یہ پتہ تھا کون جنتی ہے اور کون دوزخی ہے، کیونکہ اس کا مدار وحی پر تھا۔
طلبه: مطلوبہ ضرورت۔
قرن: ترکش فوائد ومسائل: ابو سفیان ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے واپس آ رہا تھا، جس کے ساتھ صرف تیس چالیس آدمی تھے، آپ نے اس کے حالات سے آگاہی کے لیے جاسوس روانہ کیا، پھر اس کی رپورٹ پر مطلوبہ چیز سے آگاہ کیے بغیر نکلنے کا حکم دیا تاکہ خبر عام نہ ہو جائے اور فوری تعاقب کی بنا پر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے کچھ توقف نہیں کیا اور قافلہ کا تعاقب مطلوب تھا، اس لیے، اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اور تیاری نہیں کی اور حضرت عمیر نے جنتی ہونے کی پیش گوئی سن کر چند کھجوریں کھانے کے لیے وقت صرف کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور انہیں پھینک کر وہاں جانے کے لیے دشمن سے جا ٹکرائے، لیکن اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کہ آپ کو یہ پتہ تھا کون جنتی ہے اور کون دوزخی ہے، کیونکہ اس کا مدار وحی پر تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1901 سے ماخوذ ہے۔