حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل سے جانوروں کو تکلیف پہنے گی، اور تکان لاحق ہو گی جو بلا کسی فائدہ کے ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2562
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1708), الأعمش عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الجھاد 30 (1708)، (تحفة الأشراف: 6431) (ضعیف) » (اس کے راوی ابویحییٰ قتات ضعیف راوی ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1708

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جانوروں کو لڑانے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2562]
فوائد ومسائل:
بہ اعتبار سند کے یہ روایت ضعیف ہے۔
مگر بلحاظ معنی بات ایسے ہی ہے۔
کہ یہ عمل کس طرح بھی شرفاء کے لائق نہیں ہے۔
عوام کو بھی اس سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اور جب جانوروں کو لڑانے کی ممانعت ہے۔
تو لوگوں کے درمیان لڑائی کروا دینا تو اور بھی بدترین خصلت ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2562 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1708 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1708]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہوگی، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔

نوٹ:

(اس کے راوی ابویحییٰ قتات ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1708 سے ماخوذ ہے۔