حدیث نمبر: 2560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى خَيْلَنَا خَيْلَ اللَّهِ إِذَا فَزِعْنَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا فَزِعْنَا بِالْجَمَاعَةِ وَالصَّبْرِ وَالسَّكِينَةِ ، وَإِذَا قَاتَلْنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` ، وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی ( تسلی دیتے ہوئے ) «خیل اللہ» کہتے ، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے ، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے ( تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, خبيب : مجهول،و جعفر : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4619) (ضعیف) » (اس سند میں جعفر ضعیف ہیں، خبیب مجہول، اس لئے حدیث ضعیف ہے، اور سلیمان بن سمرہ مقبول یعنی بشرط متابعت)