حدیث نمبر: 2551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلًا لَا نُسَبِّحُ حَتَّى نَحُلَّ الرِّحَالُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کسی جگہ اترتے تو نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم کجاؤں کو اونٹوں سے نیچے نہ اتار دیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2551
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3917)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 557) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´منزل پر اترنے کا بیان۔`
حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کسی جگہ اترتے تو نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم کجاؤں کو اونٹوں سے نیچے نہ اتار دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2551]
فوائد ومسائل:
جس طرح انسان کو آرام اور راحت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح حیوانات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
اسی لئے بعض علماء یہ مستحب سمجھتے ہیں۔
کہ انسان جب کسی منزل پر اترے تو چاہیے کہ پہلے اپنے جانور کو چارہ ڈالے، پھر خود کھانا کھائے۔
یہ تعلیمات اسلام کے دین فطرت اورعالمی دین ہونے کی دلیل ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2551 سے ماخوذ ہے۔