حدیث نمبر: 2540
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، قَالَ مُوسَى ، وَحَدَّثَنِي رِزْقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَوَقْتُ الْمَطَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ( وقت کی ) دعائیں رد نہیں کی جاتیں ، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں : ایک اذان کے بعد کی دعا ، دوسرے لڑائی کے وقت کی ، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں “ ۔ موسیٰ کہتے ہیں : مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : ” اور بارش کے وقت کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2540
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون ووقت المطر , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (672), أخرجه الدارمي (1023 وسنده حسن) وحديث رزق بن سعيد ضعيف لجھالة حاله
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4769)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 1 (7)، سنن الدارمی/الصلاة 9 (1236) (صحیح) (لیکن’’وقت المطر‘‘ (بارش کے وقت کا) ٹکڑاحسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 7/294، والصحیحة: 1479) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مڈبھیڑ کے وقت دعا (کی قبولیت) کا بیان۔`
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو (وقت کی) دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے بعد کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت کی، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں۔‏‏‏‏ موسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: اور بارش کے وقت کی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2540]
فوائد ومسائل:
اذان اور قتال دونوں عمل اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے ہیں۔
لہذا ان اوقات م میں دعایئں قبول ہوتی ہیں۔
درج زیل حدیث میں جہاد میں معمولی وقت لگانے کی فضیلت کا ذکر آرا ہے۔
خیال رہے کہ بارش کے وقت کا جملہ صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔
(علامہ البانی)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2540 سے ماخوذ ہے۔