سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ بِسِلاَحِهِ باب: اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ أَحْمَدُ كَذَا قَالَ : هُوَ يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ ، وَعَنْبَسَةُ يَعْنِي ابْنَ خالد جميعا ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ أَحْمَدُ : وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے ، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو ( وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے ؟ ) ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا ، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں نے جھوٹ کہا ، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ، اسے دوہرا اجر ملے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو (وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے؟)، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے۔“ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2538]
اس مجاہد کے لئے دوہرے اجر کی خوشخبری ممکن ہے۔
جہاد اور شہادت کی بنا پر ہو۔
واللہ اعلم۔
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کر دیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3152]
عامر بن اکوع، ایک لحاظ سے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں، تو دوسرے لحاظ سے ان کے اخیافی بھائی ہیں، کہ جاہلیت کے رواج کے مطابق، اکوع نے عامر کی والدہ کو جو ان کے باپ کی بیوی ہے، لیکن اس کی ماں نہیں ہے، اپنے گھر ڈال لیا تھا، تکملہ ج (3)
ص (225)
۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر نشانہ خطا ہو کر اپنے آپ کو لگ جائے اور انسان اس سے فوت ہوجائے، تو وہ خود کشی شمار نہیں ہوگا، یہ اشعاری ہی آپ نے عامر سے سنے تھے، اب سلمہ رضی اللہ عنہ پڑھے، اس لیے آپ نے پوچھا، یہ رجزیہ کلام کس کا ہے۔