سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب فِيمَنِ اخْتَارَ الصِّيَامَ باب: سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ فِي السَّفَرِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حالت سفر میں رمضان جسے پا لے … “ ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل۔`
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حالت سفر میں رمضان جسے پا لے … “، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2411]
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حالت سفر میں رمضان جسے پا لے … “، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2411]
فوائد ومسائل:
مذکورہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔
قرآن مجید میں صراحت ہے کہ سفر کے دوران میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے، بعد میں قضا دے۔
مذکورہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔
قرآن مجید میں صراحت ہے کہ سفر کے دوران میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے، بعد میں قضا دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2411 سے ماخوذ ہے۔