سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْجُنُبِ يُصَلِّي بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ باب: جنبی بھول کر نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْأَزْرَقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ صَنْعَاءَ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ وَصَفَّ النَّاسُ صفوفهم ، فخرج : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مَقَامِهِ ، ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : مَكَانَكُمْ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ ، وَنَحْنُ صُفُوفٌ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ حَرْبٍ، وَقَالَ عَيَّاشٌ فِي حَدِيثِهِ : فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( ایک مرتبہ ) نماز کے لیے اقامت ہو گئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر ( آ کر ) کھڑے ہو گئے ، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے ، آپ نے لوگوں سے کہا : ” تم سب اپنی جگہ پر رہو “ ، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس ( واپس ) آئے ، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے ۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں ، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے : ہم لوگ اسی طرح ( صف باندھے ) کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ غسل کئے ہوئے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَصَفَّ النَّاسُ صفوفهم، فخرج: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مَقَامِهِ، ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَنَحْنُ صُفُوفٌ "، وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ حَرْبٍ، وَقَالَ عَيَّاشٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ . . . .»
”. . . ´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` (ایک مرتبہ) نماز کے لیے اقامت ہو گئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر (آ کر) کھڑے ہو گئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا: ”تم سب اپنی جگہ پر رہو“، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس (واپس) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے: ہم لوگ اسی طرح (صف باندھے) کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ غسل کئے ہوئے تھے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب فِي الْجُنُبِ يُصَلِّي بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ: 235]
➊ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احکام شریعت کے اسی طرح پابند تھے جیسے کہ باقی افراد امت، سوائے ان امور کے جن میں آپ کو خصوصیت دی گئی تھی۔
➋ جسے مسجد میں جنابت لاحق ہو جائے (احتلام ہو جائے) اس کے لیے ضروری نہیں کہ تیمم کر کے باہر نکلے جیسے کہ بعض کا خیال ہے۔
➌ اقامت اور تکبیر میں کسی معقول سبب سے فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت نہیں۔
➍ مقتدیوں کو چاہئیے کہ اپنے مقرر امام کا انتظار کریں، اگر کھڑے بھی رہیں تو جائز ہے۔
بعد میں معلوم ہوگیا تو واپس تشریف لے گئے۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاری قدس سرہ نے یہ مسئلہ ثابت کیا کہ کوئی ایسی ہی سخت ضرورت پیش آجائے، تو اذان و تکبیر کے بعد بھی آدمی مسجد سے باہر نکل سکتا ہے۔
جس حدیث میں ممانعت آئی ہے وہاں محض بلاوجہ نفسانی خواہش کے باہر نکلنا مراد ہے۔
ممانعت والی حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے اورمسنداحمد میں بھی ہے۔
ان احادیث کو نقل کرنے کے بعد حضرت علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں: والحدیثان یدلان علی تحریم الخروج من المسجد بعد سماع الأذان لغیر الوضوء وقضاءالحاجة وماتدعوا الضرورة إلیه حتی یصلی فیه تلك الصلوٰة لأن ذلك المسجد قد تعین لتلك الصلوٰة۔
(نیل الأوطار)
یعنی مسجد سے اذان سننے کے بعد نکلنا حرام ہے۔
مگروضو یاقضائے حاجت یا اورکوئی ضروری کام ہو تواجازت ہے ورنہ جس مسجد میں رہتے ہوئے اذان سن لی اب اسی مسجد میں نماز کی ادائیگی لازم ہے کیونکہ اس نماز کے لیے وہی مسجد متعین ہوچکی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ احکام شریعت وطریقہ عبادت میں نسیان ہوسکتاہے تاکہ وہ وحی آسمانی کے مطابق اس نسیان کا ازالہ کرسکیں۔
(1)
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’ اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
‘‘ امام بخاری ؒ کی پیش کردہ حدیث سے پتا چلا کہ یہ وعید اس شخص کے لیے ہے جو بلاوجہ اذان کے بعد مسجد سے نکلتا ہے، البتہ کسی ضرورت کے پیش نظر اقامت کے بعد بھی مسجد سے نکلنا جائز ہے، جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے، مثلا: کسی کو جنابت کا غسل یاد آگیا یا وہ بےہوگیا یا اسے نکسیر پھوٹ نکلی یا وہ کسی دوسری مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتا ہے تو ایسے حالات میں اذان یا تکبیر کے بعد مسجد سے نکلنا جائز ہے۔
اذان کے بعد ضرورت کے بغیر مسجد سے نکلنا منافقت کی علامت ہے، چنانچہ حدیث میں ہے: اگر کوئی شخص اذان کے بعد بلاوجہ مسجد سے نکلتا ہے اور واپس بھی نہیں آتا تو وہ منافق ہے، ہاں! اگر کوئی ضرورت ہوتو الگ بات ہے۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 502/4)
اس سے معلوم ہوا کہ اذان یا اقامت کے بعد بلاوجہ مسجد سے نہیں نکلنا چاہیے (فتح الباري: 159/2) (2)
سنن دار قطنی کی ایک روایت میں اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں بحالت جنابت تھا اور غسل کرنا بھول گیا تھا۔
‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ عبادات کے سلسلے میں حضرات انبیاء علیہم السلام سہوونسیان کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اس میں حکمت یہ ہے کہ امت کو ان سے متعلقہ مسائل سے آگاہی ہو، نیز اس حدیث سے درج ذیل مسائل کا پتا چلتا ہے: ٭مائے مستعمل پاک ہے۔
٭اقامت اور نماز کے درمیان اگر فاصلہ آجائے تو دوبارہ تکبیر کہنے کی ضرورت نہیں۔
٭ دینی معاملات میں شرم وحیا کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
٭ اقامت اور نماز کے درمیان گفتگو جائز ہے۔
٭ غسل جنابت کو کسی وجہ سے مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
(فتح الباري: 160/2)
➊ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب اس لیے قائم کیا ہے کہ مسلم اور ابوداؤد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مؤذن کے اذان کہنے کے بعد مسجد سے نکل گیا تو انھوں نے کہا: «أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [مسلم: 655 - أبو داود: 536] ”یہ شخص، یقینا اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔“ مقصد یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی ضرورت ہو، مثلاً پیشاب پاخانے کی حاجت ہو جائے یا نکسیر آ جائے یا کسی اور مسجد میں جا کر نماز پڑھانی ہو تو اذان یا اقامت کے بعد مسجد سے نکل سکتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یاد آنے پر مسجد سے واپس چلے گئے تھے۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز سے پہلے صفیں درست کرنے کا خاص اہتمام ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات بہ نفسِ نفیس صفیں درست کرتے تھے۔ آپ صف کے شروع سے آخر تک جاتے، لوگوں کے کندھوں اور سینوں کو ہاتھ لگا کر سیدھا کرتے اور فرماتے: «لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ» [مسلم: 432 - أبو داود: 664] ”آگے پیچے نہ ہوا کرو، ورنہ تمھارے دلوں میں بھی اختلاف ہو جائے گا۔“ پھر جب عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں لوگ زیادہ ہو گئے تو انھوں نے صفیں درست کرنے کے لیے آدمی مقرر کر دیے، چنانچہ جب صفیں درست ہو جاتیں تو وہ نماز کے لیے تکبیر کہتے۔ [الموطا: 542، 543] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عمل کے مقابلے میں آپ ان لوگوں کے فتوے اور عمل پرغور کریں جن کا کہنا ہے کہ اقامت کہنے والے کے «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» کہنے پر لوگ کھڑے ہو جائیں اور اس کے «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کہنے پر امام «اللهُ أَكْبَرُ» کہہ کر نماز شروع کر دے۔ بتائیے صفیں کب درست ہوں گی؟ اس کا نتیجہ ہے کہ دلوں میں باہمی محبت ہے نہ نماز میں اطمینان و خشوع
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
صفیں کج، دل پریشاں، سجدہ بے ذوق
کہ جذب اندروں باقی نہیں ہے
➌ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر اقامت اور تکبیرِ تحریمہ کے درمیان کافی وقفہ بھی ہو جائے تو دوبارہ اقامت کہنے کی
ضرورت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے دور والی سہولت نہیں تھی کہ ٹونٹی کھولی اور غسل ہو گیا، بلکہ پانی رکھنے اور نہانے میں کچھ وقت لگتا تھا۔ اس کے باوجود صحابہ منتظر رہے اور آپ نے غسل کے بعد آ کر پہلی اقامت پر ہی نماز پڑھا دی۔
➍ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھول سکتے تھے، کیونکہ آپ کو یہ بات بھول گئی کہ آپ پر غسل فرض ہے، پھر یاد آیا تو گھر واپس گئے اور غسل فرمایا، جب کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے، فرمایا: «لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى» [طه: 52]
”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ اور یہ کہ یاد آنے کے بعد کہ مجھ پر غسل فرض ہے یا میرا وضو نہیں امام یا مقتدی کو حیا کی وجہ سے غسل یا وضو کے بغیر نماز نہیں پڑھنی چاہیے، بلکہ غسل یا وضو کے لیے نکل جانا چاہیے۔
➎ اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر نہیں کہی تھی اور یاد آنے پر غسل کے لیے چلے گئے تھے، [صحيح مسلم 605] میں صراحت ہے: «قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ذَكَرَ فَانْصَرَفَ» یعنی آپ تکبیر سے پہلے ہی یاد آنے پر پلٹ کر چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے نماز شروع نہیں کی تھی، جبکہ سنن ابی داؤد اور ابن حبان میں ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَوْمَاً بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ جَاءَ وَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ» [أبو داود: 233۔ ابن حبان: 2235] ”یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں داخل ہوئے اور اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ ٹھہرے رہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور آپ کے سرسے پانی کے قطرے گر رہے تھے تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔“ ان دونوں حدیثوں میں تعارض ہے، اب یا تو ان کے درمیان تطبیق دی جائے اور کہا جائے کہ ابو داؤد کی حدیث میں تکبیر کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ نے تکبیر کہنے کا ارادہ کیا تھا، یا یہ کہا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ اگر دونوں تطبیقوں پر تسلی نہ ہو تو صحیحین کی روایت کو بہر حال ترجیح حاصل ہے۔ [فتح الباري]
➏ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہاں کچھ عبارت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”ابوعبد اللہ یعنی بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر ہم میں سے کسی کو یہ معاملہ پیش آ جائے تو وہ ایسے ہی کرے؟ تو انھوں نے کہا: ہاں! پوچھا گیا: تو لوگ کھڑے ہو کر امام کا انتظار کریں یا بیٹھ کر؟ انھوں نے کہا: اگر تکبیر سے پہلے ہو تو بیٹھ جانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر تکبیر کے بعد ہو تو کھڑے رہ کر اس کا انتظار کریں۔“ بعض نسخوں میں یہ عبارت اس کے بعد والے باب کے آخر میں ہے۔
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قياما، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ "، تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں، لوگ کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ إِذَا ذَكَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَنَّهُ جُنُبٌ يَخْرُجُ كَمَا هُوَ وَلاَ يَتَيَمَّمُ:: 275]
عبدالاعلیٰ کی روایت کو امام احمد نے نکالا ہے اور اوزاعی کی روایت کو خود حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الاذان میں ذکر فرمایا ہے۔
1۔
ابن بطال ؒ نے بعض تابعین ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر کوئی جنبی شخص بھول کر مسجد میں داخل ہو جائے، جب اسے یاد آئے تو تیمم کر کے مسجد سے نکلے۔
امام ثوری ؒ اور اسحاق ؒ کا بھی یہی موقف ہے۔
(شرح ابن بطال: 389/1)
امام بخاری ؒ نے ان حضرات کی تردید میں اس عنوان کو قائم کیا ہے، یعنی جنبی آدمی مسجد میں آگیا، اسے خیال نہ تھا کہ مجھے نہانے کی ضرورت ہے، بعد میں اسے یاد آیا کہ میں تو جنبی ہوں، اب نکلنے کی کیا صورت ہوگی؟ آیا تیمم کرے، پھر نکلے یا فوراً مسجد سے باہر آ جائے؟ امام بخاری ؒ نے اپنا مسلک واضح کردیا ہے کہ یاد آنے پر اسے فوراً مسجد سے نکل آنا چاہے، اسے تیمم کے بقدر ٹھہرنے کی اجازت نہیں، البتہ مجبوری کے احکام اس سے مستثنیٰ ہوں گے، مثلاً:۔
کوئی آدمی مسجد میں سو رہا ہے، اسے احتلام ہوگیا، ادھر رات بہت اندھیری ہے۔
باہر نہیں جا سکتا۔
۔
مسجد کے باہر کوئی درندہ وغیرہ کھڑا ہے جس سے جان کو خطرہ ہے۔
۔
باہر بہت تیز بارش ہو رہی ہے۔
ایسے حالات میں وہ مسجد میں بیٹھا رہے اور اللہ سے توبہ کرتا رہے۔
2۔
حدیث سے امام بخاری ؒ کے استدلا ل کی علامہ سندھی ؒ نے بایں الفاظ وضاحت کی ہے کہ احادیث کے بیان کرنے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقصد کوئی قصہ سرائی یا داستان گوئی نہ ہوتا تھا، بلکہ وہ واقعات کو صرف مسائل شرعیہ بیان کرنے کے لیے سنایا کرتے تھے۔
اگراس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے تیمم کیا ہوتا توحضرت ابوہریرۃ ؓ اس کا ضرور تذکرہ کرتے، اس لیے یہ سکوت محل بیان کا سکوت ہے جو بیان کا حکم رکھتا ہے۔
ایسے مواقع پر عدم الذکر عدم وجود کی دلیل ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد سے نکلتے وقت تیمم نہیں کیا تھا۔
(حاشیة السندي: 60/1)
اس سے معلوم ہواکہ اگر مسجد میں داخل ہونے کے بعد جنابت کا خیال آئے تو تیمم کا انتظار کیے بغیر فوراً مسجد سے نکل آنا چاہیے۔
مسجد کے تقدس کے پیش نظر مسجد کی دیوار سے بھی تیمم کرنے کی اجازت نہیں۔
3۔
امام بخاری ؒ نے اس کی تائید میں دو متابعتیں پیش فرمائی ہیں:۔
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ بصری نے بواسطہ معمر زہری سے روایت کرنے میں عثمان بن عمر کی متابعت کی ہے جسے امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی مسند میں موصولاً بیان کیا ہے۔
۔
امام اوزاعی ؒ نے بھی حضرت ابن شہاب زہری سے اس روایت کو بیان کیا ہے جسے امام بخاری ؒ نے خود أبواب الإمامة کے اوائل میں باسند بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 497/1)
یعنی لوگوں نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے کہا اگر ہم میں کسی کو ایسا اتفاق ہو تووہ کیا کرے؟ انھوں نے کہا کہ جیسا آنحضرت ﷺ نے کیا ویسا کرے۔
لوگوں نے کہا تو مقتدی امام کا انتظار کھڑے رہ کر کرتے رہیں یا بیٹھ جائیں۔
انھوں نے کہا اگرتکبیرتحریمہ ہوچکی ہے تو کھڑے کھڑے انتظارکریں۔
ورنہ بیٹھ جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
(1)
جب امام کسی ضرورت کے پیش نظر قبل از نماز چلا جائے اور کسی قرینے سے معلوم ہوجائے کہ لوٹ کر واپس آئے گا تو مقتدی حضرات کو اس کا انتظار کرنا چاہیے، بصورت دیگر کوئی دوسرا امام نماز پڑھا سکتا ہے۔
(2)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر تحریمہ سے پہلے ہی غسل کے لیے گھر تشریف لےگئے تھے، لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو نماز شروع کرنے کے بعد یاد آیا کہ میں نے غسل نہیں کیا جیسا کہ ابو داود اور ابن حبان میں حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، پھر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اشارہ فرمایا کہ تم اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔
یہ دونوں روایات متعارض ہیں۔
ان میں تطبیق کئی طرح سے ممکن ہے: ایک تو اس طرح کہ آپ نے تکبیر تحریمہ نہیں کہی تھی، بلکہ اس کا ارادہ فرمایا تھا۔
عربی زبان میں ارادۂ فعل پرفعل کا اطلاق ہوجاتا ہے۔
اس صورت میں حضرت ابوبکرہ ؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ کی احادیث کا ایک ہی مفہوم ہوگا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ دو مختلف واقعات ہوں جیسا کہ قاضی عیاض ؒ اور علامہ قرطبی ؒ نے کہا ہے اور امام نووی ؒ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
امام ابن حبان ؒ نے اپنی عادت کے مطابق کہا ہے کہ اگر ابوبکرہ والی روایت صحیح ہے تو اسے دو واقعات پر محمول کیا جائے گا بصورت دیگر صحیح بخاری کے واقعے کو ترجیح ہوگی۔
(فتح الباري: 160/2)
(1)
ذَکَرَ: یہاں تذکرہ کے معنی میں ہے کہ آپﷺ کو یاد آیا۔
(2)
يَنْطِفُ: قطرے گر رہے تھے۔
فوائد ومسائل: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوا جب آپﷺ حجرہ مبارک سے نکلنے لگتے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تکبیر شروع کر دیتے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑا ہونا شروع کر دیتے ان کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جاتے اور آپﷺ کے مصلیٰ پر آنے تک تکبیر ہو چکی ہوتی اور مقتدی صفیں برابر کر لیتے اور یہ بھی ممکن ہے یہ واقعہ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے پہلے پیش آیا ہو اور اس بنا پر آپﷺ نے فرمایا ہو۔
(لَاتَقُوْمُوْا حَتّٰى تَرَوْنِيْ)
مجھے دیکھے بغیر کھڑا نہ ہوا کرو اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا تکبیر تحریمہ اور اقامت کے درمیان ضرورت کی گفتگو ہو سکتی ہے نیز تکبیر کے بعد کچھ ضرورت کے تحت تاخیر ہو جائے تو دوبارہ تکبیرکی ضرورت نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: ” تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو “، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 810]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”تم اپنی جگہوں پر رہو“، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 793]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ” میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1220]
فوائد و مسائل:
(1)
امام کے سہو سے مقتدیوں کی نماز خراب نہیں ہوتی۔
نبی اکرمﷺ نے بھول کر جنابت کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہی لیکن مقتدیوں کی تکبیر تحریمہ درست تھی۔
اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز کی حالت میں کھڑے رہنے کا اشارہ فرما دیا۔
(2)
اس حدیث سے بِنَا کا مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے۔
کہ اگر نبی اکرم ﷺنے تکبیر تحریمہ دوبارہ نہ کہی ہو لیکن اس میں یہ اشکال ہے کہ حالت جنابت میں کہی ہوئی تکبیر تحریمہ کو درست ماننا پڑے گا۔
اس لئے نبی اکرم ﷺنے تکبیر تحریمہ یقیناً دوبارہ کہی ہوگی۔
اور اس صورت میں بناء کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم۔