سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي الْخُلْعِ باب: خلع کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " قَالَتْ : لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا ، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ، وَذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ " ، وَقَالَتْ حَبِيبَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ : " خُذْ مِنْهَا " ، فَأَخَذَ مِنْهَا ، وَجَلَسَتْ هِيَ فِي أَهْلِهَا .
´حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کون ہے ؟ “ بولیں : میں حبیبہ بنت سہل ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا بات ہے ؟ “ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا ، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں “ ، حبیبہ کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! انہوں نے جو کچھ مجھے ( مہر وغیرہ ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا : ” اس ( مال ) میں سے لے لو “ ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حبیبہ بنت سہل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) صبح صادق میں نکلے تو ان کو اپنے دروازے پر تاریکی میں کھڑا ہوا پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کون ہے یہ؟ “ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ نے فرمایا: ” کیا بات ہے، کیسے آنا ہوا؟ “ انہوں نے کہا: نہ میں اور نہ ثابت بن قیس (یعنی دونوں بحیثیت میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، آپ ہم میں علیحدگی کرا دیجئیے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3492]
(2) خلع کی ظاہری صورت اگرچہ طلاق کے مشابہ ہے کہ عورت کے مطالبے پر خاوند طلاق دیتا ہے‘ تاہم خلع حقیقت میں فسخ نکاح ہے‘ اس لیے اس کی عدت تین حیض نہیں بلکہ ایک حیض ہے۔ اس کا مقصد اسبراءے رحم ہے‘ یعنی یہ معلوم ہوسکے کہ کہیں عورت امید سے تو نہیں۔ اگر حیض آگیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ حاملہ نہیں‘ لہٰذا وہ آگے نکاح کر سکتی ہے۔ اگر حیض نہیں آئے گا تو اسکا مطلب ہے کہ وہ حمل سے ہے۔ اس صورت میں وہ بچے کی ولادت تک آگے نکاح نہیں کرسکتی۔ دیکھیے: (حدیث:3527،3528) احناف کے نزدیک خلع طلاق ہے‘ اس لیے اس کی عدت تین حیض ہے لیکن یہ موقف درست نہیں۔