سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي الظِّهَارِ باب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا ، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی ، تو اس سے صحبت کر بیٹھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3487 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ظہار کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے “؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3487]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے “؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3487]
اردو حاشہ: (1) ”ظہار“ سے مراد ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ مقصود عورت کو حرام کرنا ہوتا ہے۔ اس کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اگر طاقت نہ ہو تو دوماہ کے پے در پے روزے رکھے۔ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ کفارے کی ادائیگی تک جماع کرنا حرام ہے۔ اگر ماں کے سوا بہن‘ بیٹی یا کسی اور محرم عورت سے تشبیہ دے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
(2) ”وہ کام کرے“ یعنی کفارہ ادا کرے۔
(2) ”وہ کام کرے“ یعنی کفارہ ادا کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3487 سے ماخوذ ہے۔