سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: نیند (سونے) سے وضو ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ ، فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وِكَاءُ السَّهِ الْعَيْنَانِ ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرین کا بندھن دونوں آنکھیں ( بیداری ) ہیں ، پس جو سو جائے وہ وضو کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جمہور علماء کے نزدیک گہری نیند وضو کی ناقض یعنی توڑ دینے والی ہے، اور ہلکی نیند وضو نہیں توڑتی، کتب احکام میں قلیل و کثیر (ہلکی اور گہری نیند) کی تحدید میں قدرے تفصیل بھی مذکور ہے، صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے کہ نیند پاخانہ اور پیشاب کی طرح ناقض وضو ہے، جبکہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ” اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کا انتظار کرتے رہتے تھے حتی کہ ان کے سر (نیند کے باعث) جھک جھک جاتے تھے۔ پھر وہ نماز پڑھ لیتے اور (نیا) وضو نہ کرتے تھے “، اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ ہلکی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 477 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 477]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 477]
اردو حاشہ: (1)
تھیلی میں اشرفیاں وغیرہ ڈال کراس کا منہ جس دھاگے یا رسی وغیرہ سے باندھا جاتا ہے اسے وِکَاء کہتے تھے۔
جب تک وِکَاء نہ کھولا جائے تھیلی میں سے کوئی چیز نہیں نکل سکتی۔
گویا وہ تھیلی کے اندر کی چیزوں کا محافظ ہے۔
اسی طرح بیداری کی حالت میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وضو قائم ہے یا ہوا خارج ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔
جب آنکھیں نیند سے بند ہوجائیں تو جسم پر کنٹرول نہیں رہتا گویا بندھن کھل جاتا ہےاور ہوا خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اسلیے نیند ہی کو وضو توڑنے والا قراردیا گیا ہے۔
(2)
نیند عام حالات میں وضو ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے اس لیے نیند سے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح شریعت میں بعض دوسرے احکام میں بھی ایک چیز کا باعث بننے والی شے کو اسی چیز والا حکم دے دیا جاتا ہے تاکہ انسان شکوک وشبہات کا شکار نہ رہے، مثلاً: ایک مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے تو اس کی کم مقدار کو بھی حرام قراردیا گیا ہے۔
تاکہ ایسا نہ ہو انسان یہ تصور کرے کہ فلان شراب کا ایک گلاس پینے سے نشہ نہیں ہوگا، پھر یہ سوچ کر ایک گلاس پی لے اور اسے نشہ ہوجائے، اس لیے ایک گلاس بھی حرام ہے اگرچہ نشہ نہ ہو۔
(3)
شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
تھیلی میں اشرفیاں وغیرہ ڈال کراس کا منہ جس دھاگے یا رسی وغیرہ سے باندھا جاتا ہے اسے وِکَاء کہتے تھے۔
جب تک وِکَاء نہ کھولا جائے تھیلی میں سے کوئی چیز نہیں نکل سکتی۔
گویا وہ تھیلی کے اندر کی چیزوں کا محافظ ہے۔
اسی طرح بیداری کی حالت میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وضو قائم ہے یا ہوا خارج ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔
جب آنکھیں نیند سے بند ہوجائیں تو جسم پر کنٹرول نہیں رہتا گویا بندھن کھل جاتا ہےاور ہوا خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اسلیے نیند ہی کو وضو توڑنے والا قراردیا گیا ہے۔
(2)
نیند عام حالات میں وضو ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے اس لیے نیند سے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح شریعت میں بعض دوسرے احکام میں بھی ایک چیز کا باعث بننے والی شے کو اسی چیز والا حکم دے دیا جاتا ہے تاکہ انسان شکوک وشبہات کا شکار نہ رہے، مثلاً: ایک مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے تو اس کی کم مقدار کو بھی حرام قراردیا گیا ہے۔
تاکہ ایسا نہ ہو انسان یہ تصور کرے کہ فلان شراب کا ایک گلاس پینے سے نشہ نہیں ہوگا، پھر یہ سوچ کر ایک گلاس پی لے اور اسے نشہ ہوجائے، اس لیے ایک گلاس بھی حرام ہے اگرچہ نشہ نہ ہو۔
(3)
شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 477 سے ماخوذ ہے۔