حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1976
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1975)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 5030) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمی جمرات کا بیان۔`
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1976]
1976. اردو حاشیہ: ابو البداح کےوالد کانام عاصم اور دادا کا نام عدی ہے۔ اس سند میں اس کو دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1976 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3070 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´چرواہوں کی رمی کا بیان۔`
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی بن جدا القضاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، (اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3070]
اردو حاشہ: چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کی رمی اگلے دن کریں، مثلاً: 10 تاریخ کو رمی کرنے کے بعد وہ چلے جائیں، پھر چاہیں تو گیارہ تاریخ کو دو دن کی رمی اکٹھی کر لیں۔ چاہیں تو 11 تاریخ کو نہ آئیں، 12 تاریخ کو دو دن کی رمی اکٹھی کر لیں۔ گویا ان کے لیے منیٰ میں رات گزارنا بھی ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3070 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 954 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن جمرات کی رمی کرنے کی رخصت ہے۔`
عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 954]
اردو حاشہ: 1؎: یعنی چرواہوں کے لیے جائزہے کہ وہ ایّام تشریق کے پہلے دن گیارہویں کی رمی کریں پھروہ اپنے اونٹوں کو چرانے چلے جائیں پھرتیسرے دن یعنی تیرہویں کو دوسرے اورتیسرے یعنی بارہویں اورتیرہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اس کی دوسری تفسیریہ ہے کہ وہ یوم النحرکوجمرئہ عقبہ کی رمی کریں پھراس کے بعدوالے دن گیارہویں اوربارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں اورپھرروانگی کے دن تیرہویں کی رمی کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 954 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3037 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عذر کی بناء پر کنکریاں مارنے میں دیر کرنے کا بیان۔`
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3037]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالحجہ کی گیارہ بارہ تیرہ تاریخ کو ایام تشریق کہتے ہیں۔
ان تین دنوں میں حاجی صرف جمرات میں رمی کرتے ہیں۔
اور جس نے دس تاریخ کو قربانی نہ کی ہو وہ ان دنوں میں قربانی کرسکتا ہے۔

(2)
عذر کی وجہ سے دو دن کی رمی ایک دن کرنا جائز ہے۔
خواہ گیارہ تاریخ کو گیارہ اور بارہ کی رمی کرلی جائے پھر اس کے بعد تیرہ تاریخ کو رمی کی جائے خواہ بارہ تاریخ کو گیارہ اور بارہ کی رمی کرکے پھر اگلے دن رمی کر لی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3037 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 636 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو منی سے باہر رات گزارنے کی اجازت دے دی کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں پھر دوسرے اور تیسرے دو روز بھی کنکریاں ماریں پھر کوچ کے سنگریزے ماریں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 636]
636لغوی تشریح: «ارحص» اور ایک نسخے میں «رحص» ہے۔ دونوں کے معنی ایک ہیں، یعنی رخصت و اجازت دے دی۔
«رعاة» را پر ضمہ کے ساتھ، «راع» کی جمع ہے۔ چرواہے۔
«في البيتوتة» «البيتوتة» بات کا مصدر ہے۔ رات گزارنا۔ رات گزارنے سے مراد منیٰ میں راتوں کو گزارنا ہے۔ جس کی تفصیل گزشتہ حدیث کی شرح میں گزر چکی ہے۔
«عن مني» «عن» یہاں بعد اور دوری کے لیے ہے اور «غائبين» محذوف کے متعلق ہو گا، یعنی منیٰ سے باہر، اس سے دور رہتے ہوئے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال کے لیے منیٰ سے دوران کی حفاظت و حراست کے لیے منیٰ میں رات نہ گزارنے کی اجازت دے دی۔
«ثم يرمون الغد و من بعد الغد ليومين» وہ یوم نحر سے اگلے دن، یعنی گیارہ اور بارہ کی کنکریاں بارہ ذوالحجہ کو مارتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دو دن کی رمی کو جمع کرتے تھے۔
«ثم ير مون يوم النفر» «نفر» سے مراد منیٰ سے واپسی کا دن، یعنی تیرہویں تاریخ ہے جسے یوم النفر الثانی بھی کہتے ہیں۔

فائدہ:
یہ حدیث دلیل ہے کہ حاجیوں کے لیے منیٰ میں رات بسر کرنا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رخصت و اجازت واجب ہی کی صورت میں کسی کو دی جاتی ہے ورنہ اگر واجب نہ ہو تو اجازت کی ضرورت ہی نہیں۔

راوئ حدیث:
حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ، ان کی کنیت ابوعبید اللہ یا ابوعمرو ہے۔ بنو عبید بن زید کے حلیف تھے۔ بنو عبید کا تعلق انصار کے قبیلے بنو عمرو بن عوف تھا۔ غزوہ بدر اور بعد کے غزوات میں حاضر رہے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ بدر کے روز یہ قبائل عالیہ پر امیر تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ 45 ہجری میں فوت ہوئے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جنگ یمامہ کے روز شہیدہوئے۔ اس وقت ان کی عمر 120 برس تھی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 636 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 877 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
877- ابوبداح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانوروں کے) چروا ہوں کویہ اجازت دی تھی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:877]
فائدہ:
ابوالبداح کے والد کا نام عاصم اور دادا کا نام عد ہے اس سند میں اس کو دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 876 سے ماخوذ ہے۔