حدیث نمبر: 1545
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی : «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك ، وتحويل عافيتك ، وفجاءة نقمتك ، وجميع سخطك» ” اے اللہ ! میں تیری نعمت کے زوال سے ، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے ، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1545
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2739)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الذکر والدعاء 26 (2739)، (تحفة الأشراف:7255) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2739

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی: «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتك، وجميع سخطك» اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
1545. اردو حاشیہ: نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت اسلام، ہدایت اور استقامت کی نعمت ہے۔ صحت و عافیت اور مادی نعمتیں بھی سراسر اسی کا فضل واحسان ہے۔ «تحویل» بعض نسخوں میں «تحول» بھی وارد ہے، معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1545 سے ماخوذ ہے۔