سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ باب: قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ : مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ رَثُّ الْهَيْئَةِ ، فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ ؟ قَالَ : يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ .
´عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں` ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ” جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ” جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1471]