سنن ابي داود
أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله— ابواب: قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل
باب فِي عَدَدِ الآىِ باب: سورۃ تبارک الذی کی آیات کا شمار۔
حدیث نمبر: 1400
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ : تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سورۃ تبارک الذی کی آیات کا شمار۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1400]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1400]
1400. اردو حاشیہ: اس حدیث میں سورہ ملک کو بطور ورد وظیفہ اختیار کرنے کی فضیلت کا بیان ہے۔ نیز یہ بھی ہے کہ بسم اللہ سورت کی آیات کا جز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1400 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2891 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورۃ نے ایک آدمی کی شفاعت (سفارش) کی تو اسے بخش دیا گیا، یہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2891]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورۃ نے ایک آدمی کی شفاعت (سفارش) کی تو اسے بخش دیا گیا، یہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2891]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عباس الجشمی لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
نوٹ:
(سند میں عباس الجشمی لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2891 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3786 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کے لیے (اللہ تعالیٰ سے) سفارش کرے گی، حتیٰ کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور وہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3786]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کے لیے (اللہ تعالیٰ سے) سفارش کرے گی، حتیٰ کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور وہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3786]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
’’شفاعت کی۔‘‘
یعنی قیامت کے دن شفاعت کرے گی، جیسا کہ ایک روایت میں (تَشفَعُ)
’’شفاعت کرے گی۔‘‘
کا لفظ ہے۔ (سنن أبي داؤد، الصلاة، باب في عدد الآي، حديث: 1400)
(2)
قیامت کے دن اعمال محسوس صورت میں سامنے آئیں گے۔
(3)
قیامت کو نیک اعمال بھی شفاعت کریں گے۔
(4)
قرآن مجید کی تلاوت ایمان کے ساتھ اورخلوص نیت سے ہو تو مغفرت کا باعث ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
’’شفاعت کی۔‘‘
یعنی قیامت کے دن شفاعت کرے گی، جیسا کہ ایک روایت میں (تَشفَعُ)
’’شفاعت کرے گی۔‘‘
کا لفظ ہے۔ (سنن أبي داؤد، الصلاة، باب في عدد الآي، حديث: 1400)
(2)
قیامت کے دن اعمال محسوس صورت میں سامنے آئیں گے۔
(3)
قیامت کو نیک اعمال بھی شفاعت کریں گے۔
(4)
قرآن مجید کی تلاوت ایمان کے ساتھ اورخلوص نیت سے ہو تو مغفرت کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3786 سے ماخوذ ہے۔