حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ،عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَتْ : وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے کہ انہوں نے کہا : ہمیں حکم دیا جاتا تھا ، پھر یہی حدیث بیان کی ، پھر آگے اس میں ہے کہ : انہوں نے بتایا : حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (971) صحيح مسلم (890)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1136، (تحفة الأشراف: 18095، 18114، 18128) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔`
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1138]
1138۔ اردو حاشیہ:
عورتوں کے لئے ایام مخصوصہ میں بھی تکبیرات اور اللہ کا ذکر مباح اور مشروع ہے، اس کے لئے طہارت ضروری نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1138 سے ماخوذ ہے۔