سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن خطبہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ : جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوزاہریہ کہتے ہیں` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن ( مسجد میں ) تھے ، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا : ایک شخص ( اسی طرح ) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن خطبہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا منع ہے۔`
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1118]
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1118]
1118۔ اردو حاشیہ:
➊ جمعہ میں دیر سے آنا اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے جگہ لینے کی کوشش کرنا انتہائی مکروہ کام ہے۔ مسلمان کا اکرام واجب ہے اور اسے ایذا دینا حرام ہے۔
➋ ہاں اگر لوگ جہالت کی وجہ سے اگلی صفیں چھوڑ کر پیچھے بیٹھ جائیں تو ایسے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔ کیونکہ انہوں نے از خود اپنی حرمت پامال کی پیچھے بیٹھے اور اگلی صفیں پوری نہیں کیں۔
➌ البتہ خطیب امام کو شرعی ضرورت کے تحت اس عمل کی رخصت ہے۔ ایسے ہی جو بےوضو ہو جائے تو باہر جانا اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر پھر بھی ادب و اکرام سے گزرے۔
➊ جمعہ میں دیر سے آنا اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے جگہ لینے کی کوشش کرنا انتہائی مکروہ کام ہے۔ مسلمان کا اکرام واجب ہے اور اسے ایذا دینا حرام ہے۔
➋ ہاں اگر لوگ جہالت کی وجہ سے اگلی صفیں چھوڑ کر پیچھے بیٹھ جائیں تو ایسے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔ کیونکہ انہوں نے از خود اپنی حرمت پامال کی پیچھے بیٹھے اور اگلی صفیں پوری نہیں کیں۔
➌ البتہ خطیب امام کو شرعی ضرورت کے تحت اس عمل کی رخصت ہے۔ ایسے ہی جو بےوضو ہو جائے تو باہر جانا اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر پھر بھی ادب و اکرام سے گزرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1118 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1400 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔`
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1400]
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1400]
1400۔ اردو حاشیہ: یہ تب ہے جب آگے صفوں میں جگہ خالی نہ ہو۔ اگر آگے جگہ خالی ہے مگر لوگوں کی گردنیں پھلانگے بغیر وہاں پہنچا نہیں جا سکتا تو گردنیں پھلانگنا جائز ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں کا قصور ہے کہ خالی جگہ چھوڑ کر پیچھے بیٹھے۔ اسی طرح امام بھی لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر منبر تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1400 سے ماخوذ ہے۔