سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے وقت کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1085]
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1085]
1085۔ اردو حاشیہ: ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ زوال کے فوراً بعد ہوتا تھا چونکہ خطبہ مختصر اور نماز قدرے لمبی ہوتی تھی اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین واپسی پر دیواروں کا اتنا سایہ نہ پاتے تھے کہ اس سے سایہ حاصل کر سکتے جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث [860] کے الفاظ ہیں۔ «وما تجد فيئا فستظل به» یعنی سایہ تو ہوتا تھا مگر بہت کم، «غداء» دوپہر کے کھانے اور «قيلوله» نصف النہار میں استراحت کرنے کو کہتے ہیں، اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جمعہ قبل الزوال ہوتا تھا۔ مگر یہ استدلال بےمحل ہے، دوپہر کا کھانا دیر کر کے کھایا جائے تو بھی اسے «غداء» ہی کہتے ہیں اور نصف النہار کی استراحت میں تاخیر کی جائے تو بھی اسے «قيلوله» ہی کہتے ہیں۔ لہٰذا جمعہ کے بعد کھانے اور قیلولہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جمعہ قبل الزوال ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1085 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 860 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے اور واپس لوٹتے تو دیواروں کا سایہ اس قدر نہ ہوتا کہ ہم ان کے سایہ میں چل سکتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1993]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: روایات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز جلد پڑھتے تھے۔
اورخطبہ لمبا چوڑا نہیں دیتےتھے۔
کیونکہ نماز جمعہ کے بعد دیواروں کا سایہ بہت نہیں پھیلا ہوتا تھا کہ انسان اس کی آڑ میں آرام سے چل سکے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ جمعہ زوالِ آفتاب سے پہلے شروع کرتے تھے۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف یہی ہے اور مختلف روایات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ نے بعض دفعہ جمعہ زوال سے پہلے شروع کیا ہے۔
لیکن آپﷺ کی عام عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپﷺ جمعہ زوال کے بعد شروع کرتے تھے لیکن وقت زیادہ نہیں لگاتے تھے۔
لیکن مولانا صفی الرحمان رحمۃ اللہ علیہ کے بقول مدینہ منورہ میں ہیں زوال کے وقت سایہ بہت کم ہوتا ہے۔
یعنی آدھی بالشت سے بھی کم ہوتا ہے۔
اس لیے اگر جمعہ زوال کے فوراً بعد شروع کر دیا جائے تو جمعہ کے بعد دیواروں کا سایہ اس قدر نہیں ہوتا کہ اس میں چلا جا سکے۔
اورخطبہ لمبا چوڑا نہیں دیتےتھے۔
کیونکہ نماز جمعہ کے بعد دیواروں کا سایہ بہت نہیں پھیلا ہوتا تھا کہ انسان اس کی آڑ میں آرام سے چل سکے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ جمعہ زوالِ آفتاب سے پہلے شروع کرتے تھے۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف یہی ہے اور مختلف روایات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ نے بعض دفعہ جمعہ زوال سے پہلے شروع کیا ہے۔
لیکن آپﷺ کی عام عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپﷺ جمعہ زوال کے بعد شروع کرتے تھے لیکن وقت زیادہ نہیں لگاتے تھے۔
لیکن مولانا صفی الرحمان رحمۃ اللہ علیہ کے بقول مدینہ منورہ میں ہیں زوال کے وقت سایہ بہت کم ہوتا ہے۔
یعنی آدھی بالشت سے بھی کم ہوتا ہے۔
اس لیے اگر جمعہ زوال کے فوراً بعد شروع کر دیا جائے تو جمعہ کے بعد دیواروں کا سایہ اس قدر نہیں ہوتا کہ اس میں چلا جا سکے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 860 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1100 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے وقت کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1100]
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1100]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جمعے کی نماز بھی ظہر کی طرح زوال کے فوراً بعد ادا کی جاتی ہے۔
(2)
جمعے کا خطبہ مختصر ہونے کی وجہ سے جلد فراغت ہوجاتی تھی۔
جس کی وجہ سے دیواروں کا سایہ کافی نہیں ہوتا تھا۔
بعض علماء نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ جمعے کی نماز زوال سے پہلے ادا کی جا سکتی ہے لیکن یہ بات درست نہیں۔
کیونکہ حجاز میں گرمی کے موسم میں زوال کے وقت بالکل سایہ نہیں ہوتا۔
جبکہ سردی کے موسم میں زوال کے وقت شمال کیطرف کافی طویل سایہ ہوجاتا ہے۔
اس وجہ سے گرمی کے ایّام میں زول سے کافی عرصہ بعد بھی سایہ مختصر ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جمعے کی نماز بھی ظہر کی طرح زوال کے فوراً بعد ادا کی جاتی ہے۔
(2)
جمعے کا خطبہ مختصر ہونے کی وجہ سے جلد فراغت ہوجاتی تھی۔
جس کی وجہ سے دیواروں کا سایہ کافی نہیں ہوتا تھا۔
بعض علماء نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ جمعے کی نماز زوال سے پہلے ادا کی جا سکتی ہے لیکن یہ بات درست نہیں۔
کیونکہ حجاز میں گرمی کے موسم میں زوال کے وقت بالکل سایہ نہیں ہوتا۔
جبکہ سردی کے موسم میں زوال کے وقت شمال کیطرف کافی طویل سایہ ہوجاتا ہے۔
اس وجہ سے گرمی کے ایّام میں زول سے کافی عرصہ بعد بھی سایہ مختصر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1100 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 355 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے۔ جمعہ سے فارغ ہو کر جب ہم اپنے گھروں کو جاتے تو اس وقت دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ جس سے سایہ لیا جا سکے۔ (یا سایہ میں چل کر پہنچ جاتے)۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں) اور مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرتے جب زوال ہو جاتا پھر واپس ہوتے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 355»
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے۔ جمعہ سے فارغ ہو کر جب ہم اپنے گھروں کو جاتے تو اس وقت دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ جس سے سایہ لیا جا سکے۔ (یا سایہ میں چل کر پہنچ جاتے)۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں) اور مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرتے جب زوال ہو جاتا پھر واپس ہوتے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 355»
تخریج:
«أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة الحديبية، حديث:4168، ومسلم، الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حديث:860.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نماز جمعہ بہت جلد ادا کی جاتی تھی۔
2.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز جمعہ زوال سے پہلے بہرحال نہیں ہوتی تھی۔
اس کا وقت بھی نماز ظہر کا وقت ہے۔
علمائے اسلام کی اکثریت اسی طرف گئی ہے‘ البتہ امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ ; کی رائے یہ ہے کہ جمعہ زوال سے پہلے بھی ہو جاتا ہے‘ نیز امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک خطبۂجمعہ تو زوال سے پہلے جائز ہے مگر نماز درست نہیں‘ وہ زوال آفتاب کے بعد ہی ہے۔
آج کل جمعے کی نماز ظہر کی نماز سے بھی زیادہ دیر سے پڑھتے ہیں جو سراسر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مخالف ہے۔
خطباء و ائمۂ مساجد کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ» ابو مسلم ان کی کنیت ہے۔
نام سلمہ بن عمرو بن اکوع ہے۔
اور اکوع کا نام سنان بن عبداللہ اسلمی مدنی ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے نہایت بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔
اتنے تیز رفتار تھے کہ دوڑنے میں گھوڑے سے بھی آگے نکل جاتے تھے۔
بہت سخی‘ فاضل اور بھلائی کا مجسمہ تھے۔
مدینہ منورہ میں ۷۴ ہجری میں وفات پائی۔
«أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة الحديبية، حديث:4168، ومسلم، الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حديث:860.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نماز جمعہ بہت جلد ادا کی جاتی تھی۔
2.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز جمعہ زوال سے پہلے بہرحال نہیں ہوتی تھی۔
اس کا وقت بھی نماز ظہر کا وقت ہے۔
علمائے اسلام کی اکثریت اسی طرف گئی ہے‘ البتہ امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ ; کی رائے یہ ہے کہ جمعہ زوال سے پہلے بھی ہو جاتا ہے‘ نیز امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک خطبۂجمعہ تو زوال سے پہلے جائز ہے مگر نماز درست نہیں‘ وہ زوال آفتاب کے بعد ہی ہے۔
آج کل جمعے کی نماز ظہر کی نماز سے بھی زیادہ دیر سے پڑھتے ہیں جو سراسر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مخالف ہے۔
خطباء و ائمۂ مساجد کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ» ابو مسلم ان کی کنیت ہے۔
نام سلمہ بن عمرو بن اکوع ہے۔
اور اکوع کا نام سنان بن عبداللہ اسلمی مدنی ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے نہایت بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔
اتنے تیز رفتار تھے کہ دوڑنے میں گھوڑے سے بھی آگے نکل جاتے تھے۔
بہت سخی‘ فاضل اور بھلائی کا مجسمہ تھے۔
مدینہ منورہ میں ۷۴ ہجری میں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 355 سے ماخوذ ہے۔