حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ " . قَالَ عُمَرُ : عَنْ شُعْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں ، لہٰذا رخصت ہے ، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ابن ماجه (1311), مغيرة بن مقسم مدلس(طبقات المدلسين : 3/107) وعنعن, والحديث السابق (الأصل : 1070) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 166 (1311)، (تحفة الأشراف: 12827) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ اور عید ایک دن پڑے تو کیا کرنا چاہئے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1073]
1073. اردو حاشیہ:
یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے۔ سنن ابی داود حدیث [1070] بھی اس کے ہم معنی ہے۔ ان احادیث کی رو سے جمعہ پڑھنا عزیمت ہے اور چھوڑنا رخصت، اس لئے دور دراز سے آنے والے اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1073 سے ماخوذ ہے۔