سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب إِذَا وَافَقَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عِيدٍ باب: جمعہ اور عید ایک دن پڑے تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ " فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا " وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : أَصَابَ السُّنَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بن ابورباح کہتے ہیں` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی ، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں ، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے ، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا : انہوں ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ ) نے سنت پر عمل کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔