حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ " ، وَقَالَ : عَنْ سَمُرَةَ : قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (۹۷۵,۲)۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1054
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (1053), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4631، 19231) (ضعیف) (قدامہ مجہول ہیں ، نیز سند میں ان کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو آدمیوں کا انقطاع ہے) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ چھوڑنے والے کے کفارہ کا بیان۔`
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
1054. اردو حاشیہ:
اس باب کی دونوں حدیثیں ضعیف ہیں، اس لئے ان سے وہ کفارہ ثابت نہیں ہوتا جو ان میں بیان ہوا ہے۔ تاہم بغیر عذر شرعی کے جمعہ چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1054 سے ماخوذ ہے۔